تازہ ترین
لوڈ ہو رہا ہے۔۔۔۔
اتوار، 6 اگست، 2017

پاک بھارت سیریز سابق ائی۔سی۔سی عہدے دار احسان مانی نے بری خبر سنا دی

5:22:00 AM

اسلام آباد(مسعودربانی)

بھارت سے قانونی جنگ میں پاکستان کے ڈیڑھ ارب روپے ڈوب جانے کا خدشہ ظاہرکیا جانے لگا۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے سابق صدر احسان مانی نے کہا کہ مجھے آئی سی سی سے پتا چلا ہے کہ بھارت کیخلاف پاکستانی کیس مضبوط نہیں، زرتلافی ملنے کا کوئی امکان نہیں لگتا، ویسے بھی لڑائی جھگڑے سے مسئلے کا حل نہیں نکلنے والا،کوئی درمیانی راہ تلاش کرنی چاہیے۔ بی سی سی آئی کا عالمی کرکٹ پر خاصا اثر ورسوخ ہے وہ دیگر بورڈز کو بھی ساتھ ملا لے گا اور ہم اکیلے رہ جائیں گے۔

احسان مانی نے کہا کہ نجم سیٹھی نے بطور چیئرمین بھارتی بورڈ سے معاہدہ کر کے بڑی غلطی کی تھی، انھیں اسے عوام کے سامنے لانا چاہیے، پتا تو چلے کہ اس میں زرتلافی کی شق شامل ہے بھی یہ نہیں، بھارتی بورڈ پہلے بھی حکومتی انکار کا کہتا رہتا تھا مگر کرکٹ کبھی نہیں رکی، اب بھی درست حکمت عملی اپنائیں تو مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے۔
آئی سی سی کے سابق صدر نے کہا کہ پاکستان کرکٹ میں عالمی تنہائی کا شکار ہے، ماضی میں ایسا نہیں تھا، آئی سی سی میں ہمارا بہت زیادہ اثرورسوخ ہوا کرتا تھا، کوئی کمیٹی ایسی نہ ہوتی جس میں پاکستانی نمائندگی نہ ہو، بدقسمتی سے اب کونسل میں پی سی بی کی کوئی آواز نہیں، ہمارا کوئی ریفری پینل میں شامل نہیں جبکہ امپائرز میں صرف علیم ڈار ہی الیٹ پینل کا حصہ ہیں، دیگر کیلیے بات کرنے والا کوئی موجود نہیں کیونکہ حکام کو کھیل کے معاملات کاکچھ پتا ہی نہیں ہے۔

احسان مانی نے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے کرکٹ بورڈکے سربراہ کا تقرر قابل افسوس بات ہے، پہلے وہ ازخود اعلان کر دیتے تھے۔ اب 2 افراد کو گورننگ بورڈ میں نامزد کرتے ہیں اور ان میں سے ایک چیئرمین بن جاتا ہے، یہ طریقہ کار درست نہیں،اسی سے معاملات بگڑتے ہیں، پی سی بی کے انتظامات ایسے لوگوں کو سنبھالنے چاہئیں جنھیں کرکٹ کا کچھ علم ہو، سابق کرکٹرز کو ترجیح دینی چاہیے۔

سابق صدر نے کہا کہ بورڈ کا آئین فراڈ ہے، اسے ختم کرنا پڑے گا، آئی سی سی بورڈز میں جمہوریت لانے کا کہتی مگر یہاں حکومتی مداخلت جاری ہے، چیئرمین کا انتخاب حقیقی جمہوری انداز میں ہونا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ماضی میں 20،25 افراد پی سی بی کے معاملات چلاتے تھے اب کئی سو ملازم ہیں،حکام کے اخراجات بھی بے تحاشا ہیں، انھیں اکاؤنٹس کی تفصیلات ویب سائٹ پر دینی چاہئیں، کس آفیشل نے کتنی رقم خرچ کی سب کچھ عوام کے سامنے لائیں۔

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Pages

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
 
فوٹر کھولیں