تازہ ترین
لوڈ ہو رہا ہے۔۔۔۔
بدھ، 16 اگست، 2017

پاکستان سنوکر کا عالمی چیمپیئن ، کھلاڑیوں کو انعامات کی توقع نہیں

10:19:00 AM

اسلام آباد:(مسعود ربانی)

پاکستان نے سنوکر کے عالمی مقابلے میں سونے اور چاندی کے تمغے ایک ساتھ اپنے نام کیے مگر بد قسمتی سے ٹیم کی پاکستان آمد پر چند فیڈریشن کے آفیشلز کے علاوہ کوئی حکومتی ارکان موجود نہ تھے۔ سنوکر کی دنیا میں پہلی دفعہ محمد یوسف نے 1994 عالمی چیمپئن کا اعزاز حاصل کیا اور پاکستان کو اس کھیل کے چیمپیئنز میں شامل کیا
پاکستان کے محمد آصف اور بابر مسیح نے مصر میں ہونے والی عالمی ٹیم سنوکر چیمپیئن شپ کے فائنل میں ہم وطن محمد سجاد اور اسجد اقبال کو شکست دے کر سنوکر چیمپیئن شپ جیت لی۔

واضح رہےکہ ٹیم سنوکر چیمپیئن شپ کے فائنل میں پہنچنے والی دونوں ٹیمیں پاکستان سے تعلق رکھتی تھیں جس میں محمد آصف اور بابر مسیح پر مشتمل پاکستان ٹیم ٹو نے پاکستان ٹیم ون کو 4-5 کے سکور سے شکست دی۔ پاکستان ون ٹیم میں محمد سجاد اور اسجد اقبال شامل تھے۔اس سے قبل سیمی فائنل میں پاکستان ون نے ویلز کو چار صفر سے شکست دی تھی اور پاکستان ٹو نے بھی اسی سکور سے آئرلینڈ کو ہرایا تھا۔

پاکستان نےدوسری دفعہ ورلڈ ٹیم سنوکر چیمپیئن شپ جیتی ہے۔ پاکستان نے اس سے پہلے 2013 میں آئرلینڈ میں ہونے والی ورلڈ ٹیم سنوکر چیمپیئن شپ کے فائنل میں ایران کوشکست دی تھی۔ اس ٹورنامنٹ میں پاکستان کی فاتح ٹیم محمد آصف اور محمد سجاد پر مشتمل تھی

محمد آصف نے گزشتہ دسمبر میں بلغاریہ میں کھیلی گئی عالمی امیچر سنوکر چیمپئن شپ جیتی تھی اور پھر اس سال مئی میں6 ریڈ ایشین سنوکر ٹائٹل بھی جیتا۔
عالمی چیمپئن شپ دسمبر میں لیٹویا میں کھیلی جائے گی جس میں محمد آصف کو عالمی اعزاز کا دفاع کرنا ہے۔

محمد آصف نے کہا کہ عالمی ٹیم ایونٹ جیتنے کے بعد انہیں انعامات کے بارے میں ارباب اقتدار سے کوئی خوش فہمی نہیں کیونکہ عالمی چیمپئن بننے کے بعد کئے گئے وعدے ابھی تک پورے نہیں کئے گئے لیکن وہ اتناضرور کہیں گے کہ جھوٹے وعدے کرکے کھلاڑیوں کی دل آزاری نہیں کرنی چاہئے۔انھوں نے کہا کہ دس ماہ کے مختصر عرصے میں تین ٹائٹل جیتنا کوئی آسان بات نہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں سنوکر کا بہت ٹیلنٹ موجود ہے اور ہم مستقبل میں کسی بھی عالمی ٹائٹل کو جیتنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں

محمد سجاد کا کہنا ہے کہ یہ جیت ان کے لئے اس لئے اہمیت رکھتی ہے کیونکہ دو تین سال سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر کوئی ٹورنامنٹ نہیں جیت پائے تھے۔ سجاد نے کہا کہ اس جیت کے بعد ممکن ہے کہ انہیں عالمی چیمپئن شپ میں وائلڈ کارڈ انٹری مل جائے۔اگر انہیں شرکت کا موقع ملا تو وہ زیادہ سے زیادہ پریکٹس کرکے اپنی فارم کو مزید بہتر کرنے کی کوشش کرینگے۔

پاکستان کے محمد سجاد نے گذشتہ ماہ کرغزستان میں ایشین 6 ریڈ بال چیمپیئن شپ کے فائنل میں ہانگ کانگ کے لی چون وائی کو شکست دی تھی اور پھر پاکستان کے محمد نسیم اختر نے چین میں ہونے والی ورلڈ انڈر 18 سنوکر چیمپیئن شپ کے فائنل میں چین کے پی فان لی کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے تھے۔

پاکستانی کھلاڑیوں کی تقریباً ایک ماہ میں یہ تیسری بڑی کامیابی ہے۔ مگر اس کے باوجود حکومت کی جانب سے کوئی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ کیا صرف کرکٹڑز ہی پاکستانی ہیں اور صرف ان کو ہی انعامات ملنے چاہئیں ہم نے بھی پاکستان کےلیے اعزاز حاصل کیے ہیں لیکن حکومت نے سنوکر کے کھلاڑیوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رکھا ہے

واضح رہے کہ سنوکر پاکستان کے ان چار کھیلوں میں شامل ہے جن میں وہ عالمی چیمپیئن بنا ہے۔پاکستان کے سنوکر کھلاڑی محمد یوسف نے 1994 میں اور محمد آصف نے سنہ 2012 میں سنوکر کا عالمی انفرادی اعزاز جیت چکے ہیں جبکہ دو کھلاڑی صالح محمد اور محمد سجاد ورلڈ چیمپیئن شپ کے فائنل تک پہنچنے میں کامیاب رہے تھے۔جبکہ پاکستان ایشیائی چیپیئن بھی رہ چکا ہے۔

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Pages

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
 
فوٹر کھولیں